بنگلورو:14؍مئی (ایس او نیوز) والدین اور سرپرستوں کی جانب سے تمام سہولیات حاصل کرنے کے بعد اگرکوئی بچہ ایس ایس ایل سی یا پی یو سی میں اعلیٰ نمبرات حاصل کرتا ہے کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ لوگوں کی نظریں اور توجہ ان طلباء و طالبات پر جاکر رک جاتی ہیں جہاں پریشانیاں اور سہولیات کا فقدان ہو اس کے باوجود امتیازی نمبرات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔یہی حال گورنمنٹ پی یو کالج کی طالبہ افشاں کی ہے۔ مذکورہ طالبہ نہ صرف غریب ہے بلکہ حالات سے بھی پریشان ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مخالف حالتوں کا مقابلہ کر کے پی یو سی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سلسلہ میں پی یو سی کی طالبہ افشاں خود بتاتی ہیں کہ امتحان کے دنوں میں انہیں بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد پیشہ سے پینٹر ہیں مگر چند مہینے قبل ایک حادثہ میں ان کا پیر ناکارہ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے ان کے والد نے جب سے ہی بستر پکڑ لیا ہے۔ جبکہ ان کی والدہ بہت دنوں سے بیمار چل رہی ہیں۔افشاں نے بتایا کہ ان کے والدین غریب ہیں۔ گھریلو حالت اچھی نہیں ہے ان کے دوسرے بہن بھائی بھی زیر تعلیم ہیں۔ ان کی امی دوسروں کے گھروں میں جاکر کپڑے دھونا، کھانا بنانا، برتن صاف کرنا، پونچھے لگانے کا کام کرتی تھی۔ کالج سے واپس آنے کے بعد وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ مگر جب سے ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ تمام تر ذمہ داریاں ان پر عائد ہوگئیں۔ روزانہ 10مختلف گھروں میں گھریلو کام کرتی تھیں۔ افشاں نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے بروقت دوسروں کے گھر پہنچتی اور کام کر کے واپس آجاتی ۔ امتحانات کے دنوں میں انہیں پڑھنے کیلئے بہت ہی کم وقت ملتا تھا۔ چونکہ دوسرے بھائی اور بہن بھی امتحان کی تیاری کررہی تھی اس لئے وہ کسی کے کام میں مخل نہیں ہونا چاہتی تھی۔ 11؍مئی کو جب پی یو سی کے نتائج کا اعلان ہوا تو خوشی کی انتہاء نہیں رہی کہ انہوں نے امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے۔ جن گھروں میں وہ ملازمت کرتی تھی۔ ان لوگوں نے بھی افشاں کو مبارکباد دیا اور ان کی خوب حوصلہ افزائی کی۔ افشاں بتاتی ہیں کہ کئی مالکین نے انہیں گلے سے لگایا اور مبارک باد پیش کیں۔ افشاں کی ماں نے جیسے ہی یہ خبر سنی مارے خوشی کے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کی ماں ظہیر النساء نے بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی خوب پڑھے اور کامیابی کی منزلیں طے کرے۔ اس کیلئے وہ ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیارہے۔ چونکہ ان کی مالی حالت اچھی نہیں ہے اس لئے وہ کبھی کبھی مجبور ہوجاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی ان کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے وہ تعلیم کے ساتھ پورے گھر کی کفالت بھی کرتی ہے۔ افشاں اپنی والدہ کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ان کی بہت قدر کی جاتی ہے بلکہ پی یو سی نتائج کے بعد رانی کی طرح ان سے سلوک کیا جارہا ہے۔ آئندہ وہ کیا کریں گی ابھی کچھ نہیں کہاجاسکتا مگر وہ اپنے گھریلو حالات کو بہتر بنانے کیلئے کوئی مناسب نوکری ضرور کرے گی۔ایس جی پی ٹی اے پی یو کالج تیاگراج نگر میں زیر تعلیم طالبہ نندنی نے پی یو سی امتحان میں 96.33فیصد نمبرات سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی مالی حالت بھی افشاں سے مختلف نہیں ہے۔ نندنی کی والدہ ایک دفتر میں آیا کا کرم کرتی ہے۔ چھٹی کے دنوں میں وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ ان کی مدد کرنے کیلئے دفتر جاتی تھی۔ وہاں وہ دفتر کی صفائی ، برتن صاف کرنا اور دیگر کام انجام دیا کرتی تھی۔ نندنی نے بتایا کہ انہیں گھر میں پڑھنے کا موقع بہت ہی کم ملتا تھا مگر کالج میں وہ پوری تیاری کرلیتی تھی۔ پی یو سی کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی ان کی ماں خوشی سے نندنی کو گلے سے لگا کر رونے لگی۔ نندنی کی ماں نے بتایا کہ وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی سماجی خدمت گزار بنے۔ خواہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے کسی بھی شعبہ میں ملازمت کر ے مگر وہ سماجی خدمت ضرور کرے گی۔ انہوں نے اب تک کامیابی حاصل کرنے کیلئے بہت محنت کی ہے۔ امید ہے کہ نندنی کی جدوجہد ایک دن رنگ لائے گی اور وہ ایک کامیاب زندگی حاصل کرے گی۔